سورج مکھی

سورج مکھی کی پاؤڈری ملڈیو

Golovinomyces cichoracearum

فطر

لب لباب

  • پتوں اور تنوں کی سطح پر سفید پاؤڈر جیسے دھبے بن جاتے ہیں۔
  • متاثرہ پتے وقت گزرنے کے ساتھ زرد ہو کر سوکھ سکتے ہیں۔

اس میں بھی پایا جا سکتا ہے

0 فصلیں

سورج مکھی

علامات

پہلے نچلے اور پرانے پتوں کی اوپری سطح پر سفید پاؤڈر جیسے چھوٹے دھبے نمودار ہوتے ہیں۔ یہ دھبے آہستہ آہستہ پھیل کر پورے پتے کی سطح کو ڈھانپ لیتے ہیں۔ شدید حالتوں میں یہ سفید پاؤڈر جیسی تہہ تنوں اور پتوں کی نچلی سطح پر بھی بن سکتی ہے۔ متاثرہ پتے پہلے زرد، پھر بھورے ہو جاتے ہیں اور مر سکتے ہیں۔ شدید متاثرہ پودوں کی بڑھوتری کمزور پڑ جاتی ہے اور وہ وقت سے پہلے بوڑھے ہو کر سوکھنے لگتے ہیں۔ بیماری کے آخری مراحل میں سفید دھبوں کے اندر چھوٹے گہرے رنگ کے گول ڈھانچے نظر آ سکتے ہیں۔

سفارشات

نامیاتی کنٹرول

حیاتیاتی کنٹرول کرنے والے اجزاء جیسے ٹرائیکوڈرما کی اقسام اور بیسیلس سبٹیلس، گندھک پر مبنی مصنوعات، پوٹاشیم بائی کاربونیٹ کا محلول یا نیم کے تیل کا اسپرے اگر بیماری شروع ہونے پر جلد استعمال کر لیا جائے تو فائدہ دے سکتے ہیں۔

کیمیائی کنٹرول

ہمیشہ ایک مربوط طریقہ اپنائیں جس میں احتیاطی تدابیر کے ساتھ حیاتیاتی یا ماحول دوست علاج کو شامل کیا جائے۔ پھپھوندی کش ادویات اس وقت سب سے زیادہ موثر ہوتی ہیں جب انہیں بیماری ظاہر ہونے سے پہلے یا بیماری کی پہلی علامت نظر آتے ہی استعمال کیا جائے۔ اسپرے کرتے وقت اس بات کا خیال رکھیں کہ دوا پودے کے تمام پتوں اور تنوں پر اچھی طرح پہنچے کیونکہ یہ بیماری پودے پر بہت تیزی سے پھیلتی ہے۔ پھپھوندی کش ادویات کے خلاف مزاحمت پیدا ہونے کے خطرے کو کم کرنے کے لیے مختلف گروپوں کی ادویات کو باری باری استعمال کریں۔

یہ کس وجہ سے ہوا

زیادہ تر پھپھوندی بیماریوں کے برعکس یہ بیماری گرم اور خشک موسم میں جب ہوا میں نمی کم ہو خوب پھلتی پھولتی ہے۔ دن گرم اور راتیں ٹھنڈی ہوں تو یہ تیزی سے پھیلتی ہے۔ یہ ہوا کے ذریعے باآسانی ایک جگہ سے دوسری جگہ پہنچ جاتی ہے۔ اس پھپھوندی کو پتے کی سطح پر پانی کی بالکل ضرورت نہیں ہوتی بلکہ یہ خشک سطح پر بھی حملہ کر سکتی ہے۔ یہ بیماری فصل کے بے موسم میں متاثرہ پودوں کے بچے کھچے حصوں اور جنگلی میزبان پودوں جیسے جنگلی سورج مکھی پر زندہ رہتی ہے۔ پودوں کا گھنا پن اور ہوا کا گزر کم ہونا بیماری کا خطرہ بڑھا دیتا ہے۔


احتیاطی تدابیر

  • تصدیق شدہ بیج اور ایسی قسمیں استعمال کریں جو بیماری کو برداشت یا مزاحمت کر سکیں۔ پودوں کو بہت گھنا نہ لگائیں تاکہ ہوا کا گزر اچھا رہے۔ غیر میزبان فصلوں کے ساتھ فصل کی ادل بدل کریں۔ فصل کٹائی کے بعد متاثرہ پودوں کے بچے کھچے حصوں کو اکٹھا کر کے تلف کر دیں۔ یوریا کھاد کا حد سے زیادہ استعمال نہ کریں۔ فصل کا باقاعدگی سے معائنہ کریں اور پہلے نچلے پتوں کو دیکھیں کہ کہیں سفید دھبے تو نہیں بن رہے۔

پلانٹکس ڈاؤن لوڈ کریں