سورج مکھی

سورج مکھی کا ورٹیسیلیم مرجھاؤ

Verticillium dahliae

فطر

لب لباب

  • پتے زرد ہو جاتے ہیں، یہ زردی نیچے سے اُوپر کی طرف بڑھتی ہے۔
  • زردی کا اثر پہلے پودے کے صرف ایک طرف (آدھے حصے) پر ہوتا ہے۔
  • اگر تنے کو کاٹ کر دیکھیں تو اندر سے بھوری رنگت نظر آتی ہے۔
  • پودے کی بڑھوتری رُک جاتی ہے اور وہ وقت سے پہلے سوکھ کر مر جاتا ہے۔

اس میں بھی پایا جا سکتا ہے

0 فصلیں

سورج مکھی

علامات

پتوں کا زرد ہونا نچلے پتوں سے شروع ہوتا ہے۔ علامات اکثر پودے کے صرف ایک طرف یا پتے کے آدھے حصے پر ظاہر ہوتی ہیں۔ متاثرہ پودے دن کے وقت مرجھا جاتے ہیں، چاہے انہیں پانی دیا گیا ہو۔ جیسے جیسے پودا بڑا ہوتا ہے، تنے کے اوپر اور اندر کی طرف چھوٹے گہرے دھبے نمودار ہو سکتے ہیں۔ شدید متاثرہ پودے صحت مند پودوں کی نسبت پہلے پک کر مر جاتے ہیں، جس سے بیج کا معیار اور پیداوار دونوں کم ہو جاتی ہے۔

سفارشات

نامیاتی کنٹرول

فی الحال کوئی بھی مکمل طور پر موثر حیاتیاتی یا نامیاتی کنٹرول دستیاب نہیں ہے۔ مٹی میں نامیاتی مادہ جیسے کمپوسٹ ملانے سے فائدہ مند جرثوموں کی سرگرمی بڑھ سکتی ہے جو بیماری پیدا کرنے والی پھپھوندی کو دباتے ہیں۔ سولرائزیشن یعنی گرم موسم میں گیلی مٹی کو پلاسٹک شیٹ سے ڈھانپنا، اس سے مٹی کی اوپری تہہ میں موجود پھپھوندی کی تعداد کم ہو سکتی ہے۔

کیمیائی کنٹرول

سورج مکھی میں ورٹیسیلیم مرجھاؤ کے لیے کیمیائی علاج کے طریقے بہت محدود ہیں کیونکہ پودے کے متاثر ہونے کے بعد کوئی بھی پوری طرح موثر پھپھوندی کش دوا فی الحال دستیاب نہیں ہے۔

بیج بونے سے پہلے بیج پر پھپھوندی کش دوا لگانے سے کچھ مدد مل سکتی ہے۔ یہ علاج بونی کے وقت ہی کریں کیونکہ پتوں پر اسپرے کرنے کا مٹی سے پھیلنے والی بیماری پر کوئی اثر نہیں ہوتا۔

کیمیائی علاج کو ہمیشہ احتیاطی تدابیر کے ساتھ ملا کر استعمال کریں، اسے کبھی بھی اکیلا حل نہ سمجھیں۔

یہ کس وجہ سے ہوا

یہ بیماری مٹی میں رہنے والی ایک پھپھوندی ورٹیسیلیم ڈیہلی کی وجہ سے ہوتی ہے۔ یہ پھپھوندی مٹی میں بغیر کسی میزبان پودے کے بھی زندہ رہ سکتی ہے۔ یہ پودے کی جڑوں کے راستے اندر داخل ہوتی ہے اور پانی کی ترسیل کو روک دیتی ہے۔ یہ مٹی، زرعی آلات، پودوں کے بچے کھچے حصوں اور بیج کے ذریعے پھیلتی ہے۔ درج ذیل عوامل بیماری کو بڑھاوا دیتے ہیں: مٹی کا ٹھنڈا درجہ حرارت یعنی پندرہ سے پچیس ڈگری سینٹی گریڈ کے درمیان۔ فصل کے شروع میں مٹی میں زیادہ نمی جس کے بعد خشک حالات پیدا ہو جائیں۔ ہلکی زمین جس میں نامیاتی مادہ کم ہو۔


احتیاطی تدابیر

  • تصدیق شدہ اور بیماری سے پاک بیج استعمال کریں اور سورج مکھی کی وہ قسم چنیں جو اس مرجھاؤ کی بیماری کو برداشت کر سکتی ہو۔ فصل کی ادل بدل ضرور کریں۔
  • کم از کم تین سے چار سال تک سورج مکھی کی جگہ ایسی فصلیں لگائیں جن پر یہ بیماری حملہ نہیں کرتی، جیسے گندم، مکئی، جوار، باجرہ۔
  • ہرگز وہاں آلو، ٹماٹر، کپاس یا سٹرابری نہ لگائیں کیونکہ یہ بیماری ان کو بھی لگ جاتی ہے۔ فصل کٹائی کے بعد کھیت میں بچے کھچے پودوں کے ڈنٹھل، جڑیں اور کچرا اکٹھا کر کے جلا دیں یا تلف کر دیں۔ جب بھی ٹریکٹر یا ہل ایک کھیت سے دوسرے کھیت میں لے کر جائیں، تو پہلے اس پر لگی مٹی کو اچھی طرح صاف کر لیں تاکہ بیماری کے جراثیم دوسرے کھیت میں نہ پھیل جائیں۔ کھیت میں پانی کھڑا نہ ہونے دیں۔
  • پانی کی نکاسی کا بہتر انتظام کریں۔
  • اس کے علاوہ یوریا کھاد کا بے دریغ استعمال نہ کریں کیونکہ زیادہ نائٹروجن بیماری کو بڑھاتی ہے۔ کھیت کے اندر اور اردگرد اگی ہوئی جڑی بوٹیوں کو ختم کریں۔ فصل کا باقاعدگی سے معائنہ کریں۔
  • خاص طور پر نیچے کے پتوں اور ان پودوں پر نظر رکھیں جن کے پتے صرف ایک طرف سے زرد پڑ رہے ہیں یا مرجھا رہے ہیں۔

پلانٹکس ڈاؤن لوڈ کریں