لیچی کا سٹنک بگ

Tessaratoma papillosa

کیڑا

لب لباب

  • لیچی کے باغ میں جب پھول اور چھوٹے پھل وقت سے پہلے جھڑنے لگیں اور نرم ڈالیوں کی نوکیں کالی پڑ کر مرجھا جائیں تو یہ سٹنک بگ ہے۔
  • اس کا رنگ بھورا مائل پیلا اور آنکھیں سرخ ہوتی ہیں۔
  • چھیڑنے پر یہ جلتا محلول پھینکتا ہے جو جلن دیتا ہے۔

اس میں بھی پایا جا سکتا ہے

0 فصلیں

علامات

پھول کی کلیاں، شگوفے، پھولوں کی ڈنڈیاں اور چھوٹے پھل سبھی علامات دکھا سکتے ہیں۔ نرم ڈالیاں اور نازک شاخیں نوکوں سے مرجھانے لگتی ہیں جو بعد میں کالی پڑ جاتی ہیں۔ خاص علامت پھولوں اور پھلوں کا سکڑ کر جھڑنا ہے۔ پھلوں پر کالے دھبے بن جاتے ہیں یا چھلکا سیاہ پڑنے لگتا ہے۔ یہ پھل وقت سے پہلے گر جاتے ہیں جس سے درخت کی پیداوار کم ہو جاتی ہے۔ جب کیڑوں کی تعداد بہت بڑھ جائے تو شاخوں اور پتوں کی بڑھوتری رک جاتی ہے اور شدید حملے میں پورے درخت کی نشوونما رک سکتی ہے۔

سفارشات

نامیاتی کنٹرول

اس سٹنک بگ کے خلاف قدرتی دشمن کیڑے بھی مددگار ہوتے ہیں جو انڈوں پر حملہ کر کے بڑے حملے کو روک سکتے ہیں۔ ممکنہ دشمن کیڑوں کی فہرست حاصل کرنے کے لیے مقامی حکام یا زرعی مشیر سے رجوع کریں۔

کیمیائی کنٹرول

بہترین نتائج کے لیے پھول آنے کے شروع سے ہی سپرے کریں۔ اچھی کوریج کے لیے ہائی پریشر اور ہائی فلو سپرےر کا استعمال کریں اور ان گھنی شاخوں اور پتوں کو نشانہ بنائیں جہاں سٹنک بگ چھپتے ہیں۔ سپرے اس وقت کریں جب کیڑے کم متحرک ہوں یعنی ٹھنڈے درجہ حرارت میں۔ شدید حملے کی صورت میں کئی بار سپرے کرنا پڑ سکتا ہے۔ مقامی حکومتیں سٹنک بگ کے کنٹرول کے پروگراموں میں تعاون کرتی ہیں۔

یہ کس وجہ سے ہوا

لیچی کا سٹنک بگ جنوب مشرقی ایشیا کا ایک حملہ آور کیڑا ہے جو تیزی سے پورے ایشیا میں پھیل چکا ہے اور اب دنیا کے نئے علاقوں میں بھی قدم جما رہا ہے۔ بالغ کیڑے کا جسم ڈھال جیسی شکل کا اور رنگ بھورے مائل پیلا ہوتا ہے۔ اس کے بچے نِمف دیکھنے میں چٹخ دار ہوتے ہیں، چمکیلے سرخ اور جسم پر سفید دھاریاں ہوتی ہیں۔ انڈوں کے گچھے خاص پہچان رکھتے ہیں، جن میں بالکل چودہ زمرد جیسے سبز یا گلابی انڈے قطار میں لگے ہوتے ہیں۔ بالغ اور بچے دونوں لیچی اور لانگان کے درختوں کی نرم کلیاں، شگوفے، پھولوں کی ڈنڈیاں اور چھوٹے پھل اپنے سوراخ کرنے والے منہ سے چوستے ہیں۔ ان کے زخموں والی جگہوں پر پھپھوندی کی بیماریاں لگ کر مزید نقصان کرتی ہیں۔ یہ سٹنک بگ درختوں کو خاص طرح کا نقصان پہنچانے کے ساتھ ساتھ انسانوں کی صحت کے لیے بھی سنگین خطرہ ہے۔ چھیڑے جانے یا خطرہ محسوس ہونے پر یہ جلا دینے والی بدبودار رطوبت چھوڑتا ہے جو جِلد پر فوراً جلن پیدا کرتی ہے اور دکھنے والے چھالے بنا سکتی ہے۔ آنکھوں میں پڑنے پر اندھاپا بھی ہو سکتا ہے۔ اگر جسم پر چھینٹا پڑ جائے تو فوراً متاثرہ جگہ کو تازے پانی سے دھوئیں اور اگر شدید جلن برقرار رہے تو طبی امداد حاصل کریں۔


احتیاطی تدابیر

  • جب بھی سٹنک بگ والے درختوں کے پاس کام کریں تو حفاظتی کپڑے پہنیں۔
  • تنے کی جڑ کے گرد چپکنے والے گوند کے حلقے لگائیں تاکہ اوپر چڑھنے والے کیڑے پھنس جائیں۔
  • ہر ہفتے درختوں کا معائنہ کریں، انڈے، بچے اور بالغ کیڑے تلاش کریں۔
  • جن پتوں پر انڈے چپکے ہوں انہیں فوراً توڑ کر اکٹھا کر لیں۔
  • متاثرہ شاخیں کاٹ کر ہٹا دیں۔
  • شاخوں پر ہلکا سا جھٹکا دیں، کیڑے مردہ ہونے کا بہانہ کر کے نیچے گر جاتے ہیں، انہیں اوزاروں کی مدد سے جمع کر لیں۔
  • نئے حملے کی اطلاع فوراً زرعی محکمے کو دیں۔

پلانٹکس ڈاؤن لوڈ کریں